بنگلورو،6؍جنوری(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کو منگل کے روز اس وقت شدید دھکا لگا جب شہر کے گنگینا ہلی اراضی ڈی نوٹیفکیشن معاملہ میں ان کے خلاف لوک آیوکتہ پولیس کی طرف سے درج فوجداری ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کرتے ہوئے ان کی طرف سے دائر عرضی کو کر ناٹکا ہائی کورٹ نے خارج کردیا اور ساتھ ہی ایڈی یورپا پر 25ہزا رروپے کا جرمانہ بھی عائد کردیا۔
ہائی کورٹ کے جج جسٹس مائیکل کنہا پر مشتمل بنچ نے یہ حکم صادر کیا ہے۔ 2008کے دوران جب ایڈی یورپا وزیر اعلیٰ رہے تو اس وقت انہوں نے شہر کے گنگینا ہلی کے قریب واقع مٹڈ ہلی میں 1.10ایکڑ زمین کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔1977میں یہ زمین بی ڈی اے کی طرف سے لے آؤٹ ترتیب دینے کے لئے اکوائر کی گئی تھی۔ اس کو ڈی نوٹیفائی کروانے کے لئے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کے رشتہ داروں کی طرف سے درخواست دی گئی تھی۔ اس کا جائزہ لینے کے بعدایڈی یورپا نے اس زمین کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے لئے احکامات صادر کئے۔ اس معاملہ میں تمام دستاویزات جمع کرنے کے بعد سماجی کارکن جئے کمارہیرے مٹھ نے شکایت درج کروائی تھی جس کے بعد لوک آیوکتہ پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔
اس ایف آئی آر کا چیلنج کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ منگل کے روز جسٹس مائکل کنہا نے ایڈی یورپا کی عرضی خارج کردی اورساتھ ہی عرضی گزار پر 25ہزا ر روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔یا درہے کہ ایڈی یورپانے ان کی سابقہ مدت اقتدار کے دوران متعدد زمینات کو ڈی نوٹیفائی کروایا اوراس کے سبب انہیں اس وقت جیل بھی جانا پڑا وہی پرانے معاملے اب ایڈی یورپا کے لئے نئی پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔